نئی دہلی،31؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکز کی مودی کی قیادت والی حکومت نے ان تما م افسران اور ملازمین کے کام کا جائزہ لینے کے لئے ہدایت جاری کی ہیں جو حکومت میں 30 سال سے زیادہ ملا زمت کر چکے ہیں ۔ متعلقہ وزارت کے مطابق یہ کوئی نیا قانون نہیں ہے بس اس پر عمل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
وزارت نے28 اگست کو ایک سرکولر جاری کیا ہے جس میں حکومت کے اس قانون کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں تحریر ہے کہ عوامی مفاد میں حکومت کسی بھی سرکاری ملازم کو وقت سےپہلے ریٹائر کرسکتی ہے اور ریٹائر کرنے کی وجہ کارکردگی اور بدعنوانی ہو سکتےہیں۔اس سرکولر میں ایسے تمام ملازمین کے کام کا جائزہ لینے کے لئے کہا گیا ہے جن کی ملازمت کا وقفہ 30 سال ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ان سرکاری ملازمین کی ملازمت کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لینے کے لئے کہا گیا ہے جن کی عمر 55 سال سے زیادہ ہو گئی ہے۔
واضح رہے سرکولر کے جاری کرنے کا مقصد سرکاری مشینری کو چست درست بنائے رکھنا ہے اور اس سے سرکاری کام کاج میں اہلیت بڑھے گی۔ اس مقصد کی حصولی کے لئے حکومت کے پاس ملازمین کو وقت سے پہلے ریٹائر کرنے کا حق ہے۔ اس سرکولر میں یہ واضح تحریر ہے کہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملازم کے ذریعہ کام ٹھیک نہ کرنے کی صورت میں اس کو ریٹائر کر سکتی ہے۔
قانون کے مطابق ریٹائر کئے جانے والےملازمین کو یا تو تین ماہ کا نوٹس دیا جاتا ہے یا پھر اس کو تین مہینے کی تنخواہ دی جاتی ہے۔قانوں مطابق وقت سے پہلے ریٹائر کئے گئے ملازمین کو پینشن ملتی رہے گی۔اس میں ان سینئر افسران کو سب سے زیادہ نقصان ہو تا ہے جن کو آخری سالوں میں ترقی یعنی پرموشن ملنی ہوتی ہے۔ اس سرکولر کے بعد سرکاری ملازمین میں نوکری جانے کا خوف ہے اور ان کوایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وبا کے اس دور میں حکومت کی جو اقتصادی حالت ہےاس میں کہیں ان کی نوکری نہ چلی جائے۔